چنڈی گڑھ،5اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سیاسی فوائد کے لئے لفافے میں مذہب کو فروخت کرنے والے ٹھیکیدار ہر طرف ہیں۔انتخابی عید میں یہ فعال ہو جاتے ہیں۔سیاست اور مذہب کے ٹھیکیداروں کے غیر قانونی رشتے کی شناخت ہر الیکشن میں سامنے آتی رہتی ہے۔اب مجرم قرارئے جانے کے بعد یہ بابا نیا طریقہ اپنا رہے ہیں۔ہندوستانی سیاست کی تاریخ میں باباؤں کا بڑا مقام رہا ہے، ہریانہ بھی کئی بار اس کی مثال ثابت ہوئی ہے۔اپنے پیروکاروں کی سیاسی سوچ کو متاثر کرنے کی باباؤں کی صلاحیت نے تمام مذاہب کے رہنماؤں کو ان کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں حالات اور بھی دلچسپ ہو گئے ہیں، ریاستی انتخابات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر ہریانہ میں باباؤں کے خیموں نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچنا شروع کر دی ہے۔انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ہریانہ کے باباؤں کے خیموں پر سیاسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ستلوک آشرم کے سربراہ رامپال اور ڈیرہ سچا سودا کے گرمیت سنگھ رام رہیم جیل میں ہیں لیکن دونوں کی آئی ٹی ٹیمیں سوشل میڈیا پر جم کر سرگرم ہیں۔انتخابات آتے ہی ان ٹیموں کے پاس لوگوں کو شامل کرنے کے لئے میدان پوری طرح کھل گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب بغیر رام رہیم اور رامپال کے اثرات کے ریاست میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں،اس لئے دونوں کی ٹیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو جوڑنے میں لگی ہیں۔میڈیا رپورٹ کی مانیں تو اس کے لئے آئی ٹی ایکسپرٹس ہائیر کئے گئے ہیں۔ان ایکسپرٹس کی نگرانی میں ہی سینکڑوں لوگ ان باباؤں کے لئے سوشل میڈیا پر ان کی حمایت میں ماحول بنانے میں لگے ہیں۔ان آئی ٹی ماہرین کی نظر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہے اور یہ مسلسل اپنے بابا کو ٹرینڈ کرتے ہیں اور دوسرے بابا کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔ٹویٹر پر گزشتہ دنوں میں یہ بابا 25 سے زائد بار ٹریڈنگ میں ہیں۔ان آئی ٹی ٹیموں کا مقصد رام رہیم اور رامپال کو متاثر بتانا ہے اور یہ آئی ٹی ٹیم عام عام لوگوں کے درمیان یہ افواہ پھیلا رہی ہیں کہ جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت کی طرف سے یہ مجرم قرار دئے گئے ہیں،انہیں عدالت نے سزا دی ہے۔بتا دیں کہ ہریانہ میں انتخابات کے وقت رام رہیم کو سزا سے پہلے لیڈر ووٹ کے لئے اس سے مدد مانگتے ہیں۔سال 2009 کے انتخابات میں رام رہیم نے ریاست میں کانگریس پارٹی کو اپنی حمایت دی تھی،جس کے بعد ریاست میں کانگریس کی حکومت بنی تھی۔اس کے بعد اس نے 2014 میں بی جے پی کو سپورٹ کیا تھا اور صوبے کے اقتدار میں بی جے پی قابض ہوئی تھی۔سمجھا جاتا ہے کہ صرف ہریانہ میں رام رہیم کے 25 لاکھ سے زیادہ پیروکار ہیں۔رام رہیم کو ملی سزا کے بعد سرسا اور پنچکولہ میں اس کے حامیوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔آج بھی رام رہیم کے آدمی اس کو مجرم ماننے سے انکار کرتے ہیں۔